رٹھوعہ ہریام پل میرپور؛ ایک نا مکمل داستان۔ تحریر جج (ر)اسحاق چودھری


جج (ر)محمد اسحاق چودھری

بیسویں صدی کی 50/60 کی دھائ میں ملکی ضروریات کے پیش نظر میرپور منگلا ڈیم کا قیام عمل میں لایا گیا تو اہلیان میرپور کی تمام تر قابل کاشت اراضیات اور ان کے بزرگوں کی قبریں منگلا جھیل کے پانی میں ڈبو دی گیئں۔

پھر کئ دھائیوں تک پاکستان میں کسی نۓ ڈیم کے لۓ اراضی کے حصول کو مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بنا دیا گیا کچھ ذہنی مریض پاکستانیوں نے تو ایسے کسی نۓ بننے والے ڈیم کو بم سے اڑا دینے تک کی دھمکی بھی دے ڈالی تو عاملان اقتدار نے ایک بار پھر (Uprising) کے نام میرپور کا ہی رخ کیا اور اہلیان میرپور کی بچی کوچی قابل کاشت اراضیات کو بھی منگلا جھیل میں ڈبو ڈالا ۔نتیجتا" جہاں ایک بار پھر لوگوں کو دربدر ھونا پڑا وھاں جھیل کے وسیع پانی کے باعث مسافت میں بیش بہا اضافہ ھوگیا جس کو کم کرنے کے لۓ بکمال مہربانی اہلیان میرپور کے لۓ ایک پل تجویز کیا گیا۔جس کی تعمیر شروع ھوۓ اب تقریبا" 20 برس ھونے کو ہیں اور اس دوران پاکستان میں قائم ھونے والی کئ حکومتوں نے اس جانب کوئ توجہ نہیں دی اور پل تادم حال مکمل نہیں ھو سکا۔ماہرین کی راۓ میں یہ پل مکمل ھوتے ھوتے ہی اپنی ایک تہائ عمر ختم کرچکاھے۔اہلیان میرپور کی قربانیوں اور شرافت کا نتیجہ اس طور دینا افسوسناک عمل ھے۔پاکستانی حکومتوں کے اس ظالمانہ فعل کے خلاف عوام میرپور'اسلام گڑھ'چکسواری'پلاک 'ڈڈیال اور کوٹلی کو اپنے جائز حق کے حصول کے لۓ اٹھنا ھو گا۔حکومت کو اہلیان میرپور کی حب الوطنی کا مزاح اڑانے کی بجاۓ ان کی بھرپور قدرومنزلت کرتے ھوۓ انہیں زیادہ سے زیادہ سہولتیں مہیا کرنی چاہیئں۔