رٹھوعہ ہریام پل پر سیاست-تحریر وجاہت احمد-

رٹھوعہ ہریام پل ایک وہ نا مکمل داستان ہے جسے پورا ہوتا دیکھنے کی حسرت لیے بہت لوگ اس دنیا سے کوچ کر گئے ہیں۔آج سے تقریباََ 17 سال پہلے شروع ہونے والا منصوبہ آج بھی تکمیل کی حسرت لیے بیٹھا ہے مختلف ادوار حکومت میں عوام کو جھوٹے وعدوں اور تسلیوں سے خاموش کرایا جاتا رہا ہے۔ یہ منصوبہ اہلیان میرپور کی قربانیون کی ایک وہ داستان ہے جس پرہر سیاسی پارٹی نے پچھلے 17 سالوں میں سیاست کی ہے اور حلقہ نمبر2 کی عوام نے ان کا چوراََ خریدا ہے پھر وہ چاہئے چوہدری مجید کے وعدہ ہو یا فارق حیدر کے ہنگامی دور ہ ہو یا پی ٹی آئی کے ٹائیگر علی امین کے پانچ ماہ میں گاڑی چلانے کے بلند دعویٰ لیکن وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو جائے۔

الیکشن قریب آتے ہی اس منصوبہ پر سیاست شروع ہو گئی ہے لیکن اس مرتبہ احتجاج کرنے والے ہی حکومت کا حصہ ہیں معاملہ کچھ یوں ہے کہ آزاد پریس کلب اور انجمن تاجران اسلام گڑھ نے پل مکمل کرانے کے لئے احتجاج تحریک کا آ غازکیا اور یکم نومبر کو پُرامن احتجاج کا اعلان کیا تحریکیوں کی پہلی میٹنگ میں ہر خاص و عام کو دعوت نہیں دی گئی اور یہ کوشش کی گئی کہ تمام سیاسی لیڈر ایک پلیٹ فارم پر اگھٹے ہو جائیں اور اس میں خا طر خواہ کامیا بی حا صل ہوئی لیکن ن لیگ رہنما نذیر انقلابی نے شرکت نہیں کی جو بحثیت حکومتی نمائندہ اصولی اور صیح فیصلہ تھا اسی رات ایک خبر گردش کرتی ہوئی کانوں تک پہنچی جو بعد میں ن لیگ کے حلقوں سے کنفرم بھی ہوئی جو کچھ یوں تھی کہ ن لیگ کی مرکزی شعو ری نے کرنل معروف کو اس بات کی یقین دہانی کروائی ہے کہ اگروہ پاور شو کرنے میں کامیاب رہے تو ٹکٹ انہیں دیا جائے گا ورنہ عظیم بخش سٹپنی امیدوار ہوں گے۔

اس خبر کا آنا تھا کی نذیر انقلابی نے چنار پریس کلب کا رخ کر لیا اور تحریکوں کو مکمل سپورٹ کی یقین دہانی کروائی اس اعلان پر حلقہ نمبر 2 کی عوام جو ہر بار اعلانات پر جشن مناتی ہے انہوں نے انقلابی صاحب کے انقلابی فیصلہ کا خیر مقدم کیا تو وہی ذی شعور عوام نے سوال اٹھا دیے کہ انہیں اگر ساتھ چلنا ہی تھا تو پہلے دن ساتھ ہولیے ہوتے اور دوسرا یہ کہ مظاہرین سے مذاکرات حکومت کا کون سے نمائندہ کرے گا؟ کیا مظاہرین اتنی پاور شو کر سکیں گے کہ وزیر اعظم احتجاج میں آ کر عوام کو آمادہ کرسکیں کیوں کہ ان کے ببر شیر تو خود ا حتجاج میں شامل ہوں گے سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ نذیر انقلابی جیسا نظر یاتی کارکن جس نے 2016 کے الیکشن میں دو بار وزیراعظم رہنے والے چوہدری عبدالمجید کو تگڑا مقابلہ دیا تھا ان کو کس با ت نے بغاوت پر مجبور کیا؟ حالات اور واقعات سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نذیر انقلابی خطرہ کو شاہد بھا نپ گئے ہیں اور دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے بطور آزاد امید وار الیکشن کمپین کا آغاز کر چکے ہیں وہ ہیں عوام کو کیا وہ سیاست سے مائل کر پائیں گے یا ان سے پوچھا جائے گا کہ انہوں نے تحریک کا آغاز اس وقت کیوں کیا جب الیکشن سر پر آپہنچے ہیں اور موجودہ حکومت کے چار سالوں میں انہوں نے کتنی بار یہ معاملہ حکومت وقت کے سامنے رکھا؟ اور بطور ن لیگی رہنما ان کو اس تحریک کا حصہ کیوں بننا پڑا جب وزیراعظم حال ہی میں اس معاملہ کا نوٹس لے چکے ہیں نذیر انقلابی شاہد وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں رن آؤٹ ہونے کا شدید خطرہ ہے۔

خیر انقلابی صاحب نے تلوار ننگی کر لی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ یکم نومبر کو مظاہرین سے حکومتی نمائندہ کی حیثیت سے کرنل معروف کی انٹری ہوگی یا سہیل سرفراز، عظیم بخش فارق حیدر کی نمائندگی کر یں گے کیوں کہ دیر سے سے سہی انقلابی صاحب نے عوامی نمائندہ بنتے ہوئے چھکا مارنے کی ٹرائی کی ہے لیکن باونڈری پر تین منجھے ہوئے سیاسی کھلاڑی موجود ہیں جو بال کیچ کرنے کی پوری کوشش کریں گے. یہ تین کھلاڑی بھی میچ فکسنگ کا شکار ہو سکتے ہیں اور احتجاج میں شریک ہو کے پونٹ سکورنگ کی ٹرای کر سکتے ہیں۔

خیر سیاسی لیڈرز پر تمام ذمہ داریاں ڈالنا بھی انصاف نہ ہو گا. رٹھوعہ ہریام برج کا نامکمل ہونا اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ حلقہ نمبر2 کی عوام منصوبہ پر سوال کرنے کے بجائے دو بار چوہدری عبدالمجید کو کامیابی دلوائی اور وزیر اعظم بنایا جنہوں نے کام کے بجائے عوام کو مکھن لگانے کو ترجیح دی اورپچھلے چار سالوں میں حلقہ نمبر 2 کے مسائل کو اسمبلی میں اٹھانے میں ناکام رہے جس حلقہ کا نمائندہ دو بار وزیراعظم رہا ہو اور کام پھر بھی نہ ہو تو سوال شائد عوام سے بنتا ہے حلقہ نمبر2 کی عوام کو آئندہ الیکشن میں اس بات کو مد نظر رکھنا ہو گا کہ ووٹ اسے دیں جو ان کی ترجمانی کر سکے اس حلقہ کو نہ ہی چار سال سونے والے لیڈر چاہئیے اور نہ ہی مسائل پر سیاست کرنے والوں کی کیونکہ قوموں کی کامیابی اور ناکامی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ وہ کس کو اپنا رہنما چنتی ہے۔